زری گُل خان

“میرا پالنہار- میرا خدا”

زری گُل خان کنیکٹیکٹ عرصہ دراز سے دل و دماغ کی ایک جنگ جاری تھی۔ روایات و خرافات کے بکھیڑوں میں کھڑے ایک انسان کو حقیقت اور سچائی پہ اطمینان کرنے میں بلا کی دشواری تھی۔ تو میں نے پروردگار سے ایک دعا کی،"بارِ الہا۔! سچائی پوری حقیقت کے ساتھ آشکار کردے۔ اور پھر یوں کر کہ مجھے اطمینان دیدے۔ میرے خیالات کی بکھری ہوئی تصویر کو تو اپنی قدرت سے جوڑ دے۔" پھر۲۰۰۸ کی دوپہرشنگھائی کی ایک جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد گانسوصوبے کے ایک مسلمان سے کچھ بات چیت کے دوران بے اختیار اشکوں کا ایک…
Continue Reading »
زری گُل خان

اختلاف رائے !!!

زری گُل خان کنیکٹیکٹ انگریزی کا ایک موقولہ ہے "آپ گھوڑے کوزبردستی دریا میں اترنے پر مجبورکر سکتے ہیں لیکن زبردستی پانی پینے پر مجبور نہیں کر سکتے۔" لوگوں کو علم تو منتقل کیا جا سکتا ھے مگر انہیں عمل پر آمادہ نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ علم منتقل کرنے والے سے عقیدت ومحبت نہ رکھتے ھوں ، محبت ھی وہ عنصر ھے جو کسی کے اتباع پر آمادہ کرتا ھے جب تک علم منتقل کرنے والا ان سے محبت نہ کرتا ھو تب تک لوگ بھی اس سے محبت نہیں کرتے ،، طاقت اور اتھارٹی صرف…
Continue Reading »
زری گُل خان

خود فریبی کا شکار قوم!!!

زری گُل خان کنیکٹیکٹ یہ ایک تسلیم شدہ عالمگیر حقیقت ہے کہ جب کسی کا حال بہت شاندار نہ ہو تو ناکام شخص اپنے ماضی میں پناہ حاصل کرتا ہےاور جھوٹ کے تڑکے لگا کر اپنی نا تمام خواہشوں میں رنگ بھرتا ہے۔ اپنی تخلیق کردہ کہانی مین وہ ایک ہیرو،مرکزنگاہ، محفلوں کی جان، یاروں کا یار سکول ،کالج یا محلے کا مقبول نوجوان، کلاس کا سب سے ذہین طالب علم اوراپنے کالج کی کرکٹ ٹیم کا کپتان ہوتا ہے۔ان جھوٹی کہانیوں کا ننھے بچوں پر کامیاب تجربہ کرنے کے بعدیہی کہانی عوامی محفلوں کو سنانے لگتا ہے، اپنے ماضی…
Continue Reading »
زری گُل خان

فیصلہ کن لمحے!!!

زری گُل خان کنیکٹیکٹ کسی دانشور کا قول ہے کہ احساس برتری در اصل احساس کمتری کی تبدیل شدہ شکل ہے جس کے شکار  اپنی کمی، کوتاہیوں کی وجہ سے درپیش شرمندگی کو چھپانے کے لئے احساس برتری کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔اپنی تاریخ کا غیر جانبدار مطالعہ ہمیں ہمارے ملک کے حکمران اشرافیہ کے چہروں پر پڑی نقاب اتارنے میں مدد دیتا ہے۔ اور ہم نے 1967 سے 2014تک اپنی اختیار کردہ ہر پالیسی پر قوم کو100 جوتوں کے ساتھ ساتھ 100 پیاز کھانے پر مجبور کیا ہے۔ عوام کے ساتھ بار بار کے دھوکوں نے عوام کو اس…
Continue Reading »
زری گُل خان

ہمارے معاشرتی و نفسیاتی مسائل!!!

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پے دم نکلے بہت نکلے، میرے ارمان، لیکن پھربھی کم نکلے زری گُل خان کنیکٹیکٹ مجھے یہ کہنے کی اجازت دیجیئے کہ آج ہمارا معاشرہ اس شعر کی عملی تصویربنا ہے۔ مادیت پرستی اورخود پرستی کا دور دورہ ہے۔ ہر شخص محنت کیئے بغیر اور کچھ قیمت ادا کیئے بغیر سب کچھ کم از کم وقت میں سب سے پہلے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ قدرت نے انسان کو عجیب و غریب فطرت سے نوازا ہے۔ جدید ریسرچ سے ثابت ہے کہ بچے کی نفسیات وعادات ایک خاص عمر تک ایک ڈھانچے میں ڈھل چکی…
Continue Reading »
زری گُل خان

روزگار کیسا ہو۔!!!

زری گُل خان کنیکٹیکٹ زمانہ طالب علمی میں ایک مثل سنتے تھے" دریا کے کنارے پیاسا مر جانا"۔ لیکن اس وقت کم عمری کی وجہ سے اس مثال کی سمجھ نہیں آتی تھی۔ آج کچھ کچھ سمجھ آ رہی ہے۔جب اپنی زندگی پر درجنوں تجربے کر چکے۔وہ جو کہتے ہیں ” گھر کی مرغی دال برابر“ایک عالمی سچائی نظر آنے لگی ہے۔۔ ہم زندگی میں بار ہا اپنے ارد گرد موجود وسائل، مواقع کو حقیر سمجھ کر استعمال نہیں کرتے۔ اور عمر کے آخری حصے میں اس وقت اپنی غلطیوں کا ادراک ہوتا ہے جب ہم ان غلطیوں کو ٹھیک…
Continue Reading »
زری گُل خان

مشترکہ خاندانی نظام اوردورجدید کے تقاضے!!!

زری گل خٹک کنیکٹیکٹ مشترکہ خاندانی نظام یا جائنٹ فیملی سسٹم کے مضمون پر تفصیلی بحث سے پہلے اپنے قارئین کو یہ بتاناضروری سمجھتا ہوں کہ اس نظام کی ابتداءکیسے ہوئی۔تاریخ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مشترکہ خاندانی نظام قدیم آریائی تہذیب کا خاصہ تھا اور راجپوت (آریائی ) نقل مکانی سے اس خطہ میں داخل ہوا۔ اور اس کا مداوا بھی شاید راجپوت نظام میں رکھا گیا ہے چونکہ اس نظام میں بڑا بیٹا چھوٹے بھائیوں کی شادی تک خاندان کا بوجھ اُٹھاتا ھے،لہٰذا ساری جائداد کا مالک بھی بڑا بیٹا ہوتا ہے۔ جبکہ اسلام میں مشترکہ…
Continue Reading »