صحت

اٹھنے بیٹھنے کے درست انداز اپنائیں!

کچھ معمولی عادات ایسی ہیں، جن کو درست کر لیا جائے تو انسان بہت سے طبی اور جسمانی مسائل سے بچ سکتا ہے۔ انہی میں سے ایک ہمارے اٹھنے بیٹھنے کی عادات ہیں، جسے سمجھنا ہماری صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔

غلط انداز میں بیٹھے رہنا بہت سی جسمانی پیچیدگیوں کا باعث بنتا ہے اور یہ مسائل آگے چل کر بہت تکلیف دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں برطانوی فیزیو تھراپسٹ نِک سنفیلڈ نے بیٹھنے یا کھڑے ہونے کی کچھ عام حالتوں کی غلطیوں کی نشاندہی کی ہے، جس سے آپ کو انہیں درست کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جھک کر نہ بیٹھیں

جھک کر بیٹھنا اکثر آرام دہ ہوتا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ پوزیشن پٹھوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے اور درد کا سبب بن سکتی ہے۔ صحیح طریقے سے بیٹھنے کی عادت ڈالیں۔ ہوسکتا ہے کہ پہلے آپ کو آرام محسوس نہ ہو کیونکہ آپ کے پٹھے اب صحیح پوزیشن پر آنے کے لیے تیار نہ ہوں مگر پھر آہستہ آہستہ آپ اس کے عادی ہو جائیں گے۔

اپنے کندھوں کو محراب نہ بنائیں

اپنے ڈیسک پر اپنے کمپیوٹر پر کام کرتے وقت آپ کا سر آگے کی طرف جھک سکتا ہے جو اوپری پیٹھ کو گول کرنے کا باعث ہوسکتا ہے اور نتیجتاً کندھے اکڑ جاتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ اس وقت ہوتا ہے جب آپ اپنا فون استعمال کرتے ہیں، جس سے ’ٹیکسٹ نیک سنڈروم‘ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جو گردن میں درد اور اکڑن، کمر میں درد اور سر درد کا باعث بن سکتے ہیں۔

اپنی پوزیشن کو درست کرنے پر توجہ دینے کے علاوہ فزیو نِک سنفیلڈ اوپری کمر، گردن، اور کندھوں کے پچھلے حصے، سینے کے پھیلاؤ اور گردن کے پوسچر کو درست کرنے اور انھیں مضبوط بنانے کے لیے ایکسرسائز یا خاص قسم کی ورزش کی تجویز دیتے ہیں۔

اپنی ٹھوڑی کو باہر نہ رکھیں

جس طرح کام کے دوران بیٹھتے وقت آپ کا سر آگے کی طرف جْھک سکتا ہے، اسی طرح آپ کی گردن بھی مخالف سمت میں جْھک سکتی ہے۔ اس سے بچنے کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کریں:

٭ جب آپ اپنی ٹھوڑی کو اندر کرتے ہیں تو آہستہ سے اپنی گردن کو لمبا کریں۔

٭ کندھے کے بلیڈ کو نیچے اور ریڑھ کی ہڈی کی طرف کھینچیں۔

٭ کمر کے نچلے حصے میں قدرتی بل کو برقرار رکھنے کے لیے پیٹ کے نچلے حصے کے پٹھوں کو درست رکھیں۔

٭ اپنی کرسی کو ایڈجسٹ کریں تاکہ یہ بہت نیچے نہ ہو اور آپ کی سکرین بھی بہت اوپر نہ ہو۔

گردن کے کھنچھاؤ اور درد کے لیے مندرجہ ذیل مشقیںمفید ہیں۔

٭ گردن کے کھچاؤ کو کم کرنے کے لیے اپنے بائیں کان کو اپنے بائیں کندھے کی طرف آہستہ سے نیچے کریں۔ اسے دس سے 15 گہری سانسوں تک اسی طرح روکے رکھیں پھر مخالف سمت سے اس مشق کو دہرائیں۔

٭ گردن کی گردش کی ورزش کے لیے اپنی ٹھوڑی کو آہستہ آہستہ ایک کندھے کی طرف گھمائیں۔ اسے دس سے 15 گہری سانسوں تک ایک طرف کو پکڑے رکھیں، مخالف سمت سے پھر اسی مشق کو دہرائیں۔

ایک ٹانگ پر کھڑے نہ ہوں

جب ہمیں طویل عرصے تک کھڑے رہنا پڑتا ہے تو کچھ چیز ہے جو ہم کچھ آرام کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ لیکن اپنے آپ کو سیدھا رکھنے کے لیے عام طور پر ہم اپنے گلٹس اور اہم اعصاب کا استعمال کرنے کے بجائے اپنی کمر کے نچلے حصے اور کولہے کے ایک طرف ضرورت سے زیادہ دباؤ ڈالتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ شرونیی حصے (پلوِک ایریا) کے اردگرد پٹھوں میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔ ہمیشہ اپنے وزن کو دونوں ٹانگوں پر یکساں طور پر تقسیم کرتے ہوئے کھڑے رہنے کی عادت ڈالیں۔

کولہے جسم کے متوازی رکھیں

اونچی ایڑی والے جوتے پہننے اور پیٹ کے اردگرد زیادہ وزن ڈالنے کے نتیجے میں آپ کا جسم ’ڈونلڈ ڈک‘ کے طور پر مشہور پوسچر کی طرح ہو سکتا ہے۔ اسے درست کرنے کے لیے تصور کریں کہ آپ کے سر پر ایک رسی بندھی ہوئی ہے جو اْوپر کی طرف کھینچ رہی ہے۔ خیال یہ ہے کہ آپ اپنے جسم کو کامل سیدھا رکھیں، آپ کی ریڑھ کی ہڈی کے قدرتی بل، آپ کی گردن سیدھی، اور آپ کے کندھے آپ کے کولہوں کے متوازی ہوں۔

مضبوط رہیں

نچلے حصے میں قدرتی بل کے بغیر جب آپ کے پیلوک کا حصہ آگے کی طرف جھک جاتا ہے اور آپ کی پیٹھ چپٹی ہوتی ہے تو آپ کا جسم آگے کی طرف جْھک جاتا ہے۔ یہ بل اکثر پٹھوں کے عدم توازن کی وجہ سے ہوتا ہے، لیکن زیادہ دیر تک بیٹھے رہنے سے کمر چپٹی ہونے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔

ماہرین اس کو بہتر بنانے کے لیے، سن فیلڈ کور، گلٹس، گردن اور کندھوں کے پچھلے حصے اور کمر کے پٹھوں کو مضبوط کرنے کے لیے ایکسرسائز کی تجویز دیتے ہیں۔ مناسب انداز میں کھڑے ہونے کے لیے اپنے کندھوں کو پیچھے رکھیں اور آرام کریں۔ اپنے پیٹ کو اندر کریں اور اپنے پیروں کو کولہے کے فاصلہ سے الگ رکھیں۔ اپنے وزن کو دونوں پاؤں پر یکساں طور پر متوازن ڈالیں، اپنے سر کو آگے، پیچھے یا ایک طرف نہ جھکنے دیں اور اپنی ٹانگیں سیدھی رکھیں، لیکن اپنے گھٹنوں کو آرام دیں۔ (بشکریہ بی بی سی اردو)

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button